میں اک پری ہوں
تھام کہ یوں ہاتھ تیرا، آج میں چلی
ہوں
جو بھی تھی میں کل، پر آج کُچھ نئ ہوں
نہ جانوں ہوں میں کون
پر میں " اک پری ہوں " اٹھلاتی،
اتراتی سی ، آج یوں چلی ہوں
ہے عشق کا خُمار ایسا، میں تو منچلی ہوں
" تُو ہے میرا پیارا سا جہان " جسکی
میں " پری " ہوں
ڈُوب کے تیرے عشق میں ،
یں تو یوں رنگی ہوں
پنکھ کو یوں لہراتی میں اُڑنے لگی ہوں
تیری خُوشبو سے مہکتی " میں اک تتلی ہوں
" "ہے تیرا پیار جسکا حُسن " میں وُہ " پری " ہوں
میں تیری بس تیری " پری " ہوں۔۔۔

No comments:
Post a Comment