طرزِ
دیوانگی نہیں جاتی
ہوش کی
لوں۔ تو لی نہیں جاتی
خلشِ
عاشقی نہیں جاتی
نہیں
جاتی ۔ کبھی نہیں جاتی
بات
پُوری کرو تُمھاری بات
بیچ میں
سے تو لی نہیں جاتی
کیوں
کئے تھے ستم جو کہتے ہو
یہ
دُہائی سُنی نہیں جاتی
دیکھ
اُس چشمِ مست کو زاہد
تجھ سے
اتنی بھی پی نہیں جاتی
بد دعا
سن رہی ہے کیوں شبِ غم
سامنے
سے چلی نہیں جاتی
اُڑتی
رہتی ہے گو ہماری خاک
چھوڑ کر
وہ گلی نہیں جاتی
وہ نہ
جائیں عدو کے گھر جب بھی
بد
گمانی مری نہیں جاتی
گرچہ
بلبل ہزار نالاں ہو
گُل تر
کی ہنسی نہیں جاتی
جلوہ
یار سامنے ہے مگر
شوق کی
بے خودی نہیں جاتی
دعویِ
عشق پر وہ کہتے ہیں
یہ
تعلّی سُنی نہیں جاتی
اب وہ
آتے ہیں آرزو میری
مر کے
کمبخت جی نہیں جاتی
وقتِ
آخر ہوا مگر اے داغ
ہوسِ
زندگی نہیں جاتی

No comments:
Post a Comment