دل جو
ناکام ہوا جاتا ہے
شوق کا
کام ہوا جاتا ہے
نہ مٹاؤ
کسی عاشق کا نشاں
نام
بدنام ہوا جاتا ہے
لطفِ
ایذا طلبی کیا کہیے
درد
آرام ہوا جاتا ہے
دل
بیمار میں چٹکی لے لو
ابھی
آرام ہوا جاتا ہے
رنگ
لائے گا ترا رنگ عتاب
چہرہ
گلفام ہوا جاتا ہے
آج کل
کثرتِ عشاق سے عشق
شیوہ
عام ہوا جاتا ہے
دیکھ کر
مست وہ کافر آنکھیں
خونِ
اسلام ہوا جاتا ہے
گلہ مہر
و وفا مجھ سے نہ کر
شکوہ
دشنام ہوا جاتا ہے
طلبِ
وصل میں اے دل نہ تڑپ
اب سر
انجام ہوا جاتا ہے
کیوں
کیا ذکرِ محبت اُن سے
یہ بھی
پیغام ہوا جاتا ہے
داغ کے
پاس جو آؤ تو ابھی
دُور الزام ہوا جاتا ہے

No comments:
Post a Comment