جھُو ٹی
پیوں رقیب کی مجھ کو حرام ہے
ساقی کے
ہاتھ میں تو فقط ایک جام ہے
وہ چشمِ
مست سامنے میرے مدام ہے
ایسے
شراب خوار کو توبہ حرام ہے
جو چھید
ڈالے دل کو تمھاری نگاہ ہے
جو پیس
ڈالے دل کو تمھارا خرام ہے
ہر اہل
درد کو درمِ داغ ہے نصیب
سرکارِ
عشق کا بھی عجب فیضِ عام ہے
وہ رنج
اُٹھائے ہم نے اگر کوچہ آپ کا
دار
السّلام ہے تو ہمارا سلام ہے
اِس
چپقلش میں فاتحہ کو وہ نہ آئیں گے
خلقت کا
میری قبر پہ کیوں اژدہام ہے
جو شکل
ہے تری وہی اک شوخ کی ہے شکل
جو نام
ہے ترا وُہی اُس کا بھی نام ہے
اہلِ
وفا میں تم نے کیا غیر کو شریک
تم
جانتے نہیں وہ ہمارا غلام ہے
یا دل
مقابلے کی نہیں تاب لا سکا
یا آج
تُرکِ چشم کی تُرکی تمام ہے
ملنے کو
آئے ہیں تو بڑے اجتناب سے
مجھ کو
روزِ عید بھی ماہِ صیام ہے
کہتے ہیں کس کو داغ یہ کیا آپ نے کہا؟
لے دل میں چُٹکیاں یہ اُسی کا کلام ہے

No comments:
Post a Comment