ہم نے مزے خیالِ رخِ یار کے لئے
دیدار والے جائیں گے دیدار کے لئے
کچھ خونِ دل ہے دیدہ خونبار کے لئے
کچھ ہے بچا کھچا غم و آزار کے لئے
سرمہ ضرور ہے نگہ یار کے لئے
یہ باڑ چاہیے اسی تلوار کے لئے
ترسی جب آنکھ جلوہ دیدار کے لئے
بوسے ہی ہم نے روزنِ دیوار کے لئے
کیا حالِ دل کہوں کہ تری چشم گیں
ہے مہر خامشی لبِ اظہار کے لئے
اصحابِ کہف سے جو بچے خواب وہ ملے
یا رب عدو کے طالع بیدار کے لئے
ہوتا ہے اور جلوہ فروشوں سے کیا نصیب
دو چار گالیاں ہیں خریدار کے لئے
انکار کیجے آپ مگر شکل آپ کی
کہتی ہے میں بنی ہوں ترے پیار کے لئے
مجرم بتوں کا بھی ہوں خدا کا بھی چور ہوں
دونوں میں ضد ہے ایک گنہگار کے لئے
دیکھو کوئی نگاہ کی شوخی اُڑا نہ لے
رکھ لو بچا کے تیزی رفتار کے لئے
حلقے میں ہے مژہ کے تری چشم نرگسی
تیمار دار جمع ہیں بیمار کے لئے
یہ بارِ ناز ہم سے اُٹھایا نہ جائے گا
بیگاری آپ ڈھونڈئیے بیگار کے لئے
تر دامنی میں اشکِ ندامت بھی ہیں شریک
رحمت کا ہے نچوڑ گنہگار کے لئے
یہ جان کس کے واسطے جاناں کے واسطے
یہ دل ہے اور کس کے لئے یار کے لئے
بیٹھے ہیں راہ دوست میں ہم پاؤں توڑ کر
اب فکر کیا ہے منزلِ دشوار کے لئے
حصہ وفا کا اور جفا کا ہوا ہے یوں
یہ دل کے واسطے وہ دل آزار کے لئے
نازک کلائی پھول سی اِس کام کی نہیں
مَشاق ہاتھ چاہیے تلوار کے لئے
خانہ خرابیاں بھی ہیں رسوائیوں کے ساتھ
یہ گھر کے واسطے ہیں وہ بازار کے لئے
تیرے تبسمِ نمکیں میں ہے اِک مزا
لیکن جگر فگارو دل افگار کے لئے
ہرجائی ایسی توبہ کو کیا مُنہ لگائیں ہم
زاہد کے واسطے کبھی میخوار کے لئے
تو دل کو ایک بار نہ کھا اے غمِ فراق
رکھا ہے اُس کو ہم نے کئی بار کے لئے
خلوت میں ہیں شکر لب و شیریں دہن کے لطف
ایسی مٹھائیاں نہیں بازار کے لئے
یہ حال دیکھ کر ملک الموت کیا عجب
مانگے اگر دعا ترے بیمار کے لئے
یہ داغ کی دعا ہے کہ پروردگار دے
دنیا کی خوبیاں مرے سرکار کے لئے

No comments:
Post a Comment