ہم کیا کریں جو
سلطنت روم و شام ہے
بے مثل
بادشاہ ہمارا نظام ہے
کیا دلدہی
کے ساتھ جواب پیام ہے
اے نامہ بر
تجھے تو ہمارا سلام ہے
محشر میں
کامیاب ہوں اسمیں کلام ہے
یہ طولِ
مدّعا ہے تو بس دن تمام ہے
دل سے نکل
گئی تھی شبِ ہجر ایک آہ
اُس دن سے
آسمان پئے انتقام ہے
ہر وقت سوز
عشق سے روشن ہے داغِ دل
ایسے چراغ
کو نہ سحر ہے نہ شام ہے
کرتا ہے
ہجرِ یار میں کیا خونِ آرزو
تلوار کا جو
کام ہے وہ دل کا کام ہے
جھوٹی ہمیشہ
کھاتے ہو قرآن کی قسم
تم جانتے
نہیں یہ خدا کا کلام ہے
خواب و
خیالِ وصل کا کیونکر ہو اعتبار
اے دل سمجھ
لے تو یہ پریشاں وہ خام ہے
کیا مجرمان
عشق کی ہو گی نہ مغفرت؟
واعظ ترے
کلام میں ہم کو کلام ہے
وہ فاتحہ کے
واسطے ہر روز آئیں گے
لوحِ مزار
پر مرے دشمن کا نام ہے
دل میں
ہمارے آ کے ترا جی بہل گیا
کیوں کیا
کہا تھا ہم نے یہ کیسا مقام ہے
اُس کا ستم
شریک زمانہ بھی چرخ بھی
کیا کیا
جفائے بار کا اب اہتمام ہے
تم کس کے
میہمان مرے میہمان ہو
دل کس کا ہے
مقام تمھارا مقام ہے
ناصح کی بات
بات مجھے تیر ہو گئی
دل چھید
ڈالے یہ کوئی طرزِ کلام ہے
ہر چشمِ
نقشِ پا میں جو ہیں فتنے کیا عجب
تو فتنہ گر
ہے اور قیامت خرام ہے
آئیں نہ
خواب میں بھی تو کیا وصل کا مزا
حوروں کو
دُور ہی سے ہمارا سلام ہے
بد وضع کہہ
کے داغ کو مجرم بنو نہ تم
سرکارِ بادشاہ میں وہ نیک نام ہے

No comments:
Post a Comment