دل میں
کیا مہرباں نہیں آتی
بات
کہنے میں ہاں نہیں آتی
بڑھ گیا
تجھ سے وہ ستم ایجاد
شرم سے
آسماں نہیں آتی
کس طرح
قول کے ہوں وہ سچّے
میرے
منہ میں زُباں نہیں آتی
اُس
ستمگر کو یاد بھی میری
بھول کر
ناگہاں نہیں آتی
ہے
طبیعت بھی اپنی ہر جائی
کس جگہ
یہ کہاں نہیں آتی
جل کے
دل خاک ہو گیا شاید
بوئے
سوزِ نہاں نہیں آتی
گو بلا
ہے مفارقت تیری
نہیں
آتی جہاں نہیں آتی
بیخودی
میں کہا تھا اُن سے حال
یاد وہ
داستاں نہیں آتی
شب غم
مر گیا موذن کیا
آج
بانگِ اذاں نہیں آتی
وہ
اِشاروں سے کام لیتے ہیں
گفتگو
درمیاں نہیں آتی
کام کر
جائے گی یہ خاموشی
ہم کو
آہ و فغان نہیں آتی
ہے
نزاکت بھری خبر اُن کی
کہ وہاں
سے یہاں نہیں آتی
تجھ کو
ہو گا ثواب فرقت میں
اے اجل
کیوں یہاں نہیں آتی
دل
لگاتے ہی ہم تو مرتے ہیں
نوبتِ
امتحاں نہیں آتی
روز
محشر بھی تیرے کشتے کے
تن میں
روحِ رواں نہیں آتی
داغ ہی
جانتا ہے طرزِ وفا
تم کو
اے مہرباں نہیں آتی

No comments:
Post a Comment