حسنِ ادا بھی خوبئ صورت میں چاہیے
یہ بڑھتی دولت ایسی ہی دولت میں چاہیے
ہمت کا ہارنا نہ مصیبت میں چاہیے
تھوڑا سا حوصلہ بھی طبیعت میں چاہیے
باہم یہ میل جول محبت میں چاہیے
میری طبیعت اُس کی طبیعت میں چاہیے
آ جائے راہِ راست پہ کافر ترا مزاج
اِک بندہ خدا تری خدمت میں چاہیے
طوبیٰ ہو یا ہو سرو ترا بانکپن کہاں
انداز بھی تو کچھ قد و قامت میں چاہیے
میں تجھ سے پوچھتا ہوں مرے دل کا فیصلہ
دُنیا میں چاہیے کہ قیامت میں چاہیے
کیا لطفِ دشمنی جو تعلق ہی اُٹھ گیا
کچھ چھیڑ چھاڑ بھی تو عداوت میں چاہیے
انصاف سے کہو کہ یہ بیداد کا طریق
تم کو نہ چاہیے کہ محبت میں چاہیے
آیا ہے کیا پسند خمِ زلفِ پُر شکن
کہتا ہوں میں یہ بل مری قسمت میں چاہیے
اُس چشمِ سحر فن نے کیا مجھے ہلاک
جادو کی روشنی مری تربت میں چاہیے
دیکھے کچھ اُن کے چال چلن اور رنگ ڈھنگ
دینا دل ان حسینوں کو مدّت میں چاہیے
کہتا ہے رشک دیدہ و دل بھی نہ ہوں شریک
غیرت بھی انتہا کی محبت میں چاہیے
ٹھنڈے کلیجے ہوں رخِ دلدار دیکھ کر
ٹھنڈا بھی آفتاب قیامت میں چاہیے
نازل جو ہوں بلائیں فلک سے وہ دیکھ لوں
اتنی تو چاندنی شب فرقت میں چاہیے
یہ عشق کا ہے گھر کوئی دار الاماں نہیں
ہر روز واردات محبت میں چاہیے
میں نے شبِ وصال جگایا تو یہ کہا
کیا اُٹھ کے بیٹھنا بھی نزاکت میں چاہیے
معشوق کے کہے کا برا مانتے ہو داغ
برداشت آدمی کی طبیعت میں چاہیے

No comments:
Post a Comment