رکھے جو ہوشیار وہ صحبت میں چاہیے
میرا رقیب ہی مری خدمت میں چاہیے
جلوے کا تیرے نور بصارت میں چاہیے
ایسا چراغ راہِ محبت میں چاہیے
عشاق روئیں گے غمِ معشوق میں بہت
ماتم کدہ بھی گو شہ جنت میں چاہیے
حاضر یہ بد نصیب ہے بدلے رقیب کے
کوئی نہ کوئی آپ کی خدمت میں چاہیے
پاسِ ادب سے نام نہ لوں گا ، کہوں گا میں
کوئی علاوہ حور کے جنت میں چاہیے
میخوار کو ہو مژدہ کہ قاضی نے کہہ دیا
پینا شراب کا بھی ضرورت میں چاہیے
جینا ہجومِ یاس میں دشوار ہو گیا
مرنا بھی ان بلاؤں سے فرصت میں چاہیے
فرقت میں کیوں عذاب کی بھر مار مجھ پہ ہے
کافر کے واسطے یہ قیامت میں چاہیے
کیوں صر صرِ فنا سے بُجھی شمع آہ کی
یہ لو لگی ہوئی مری تربت میں چاہیے
اے دل شبِ فراق بھی گر سخت جاں رہا
مرنا بھی اور کون سی حالت میں چاہیے
خوں گشتہ آرزو بھی مرے ساتھ دفن ہو
تربت اک اور بھی مری تربت میں چاہیے
لُوں گا نہ قصرِ خلد ترے دل کو دیکھ کر
کہہ دوں گا میں یہ گھر مجھے جنت میں چاہیے
جب مر گئے تو لذّتِ آزار پھر کہاں
مرنا غمِ فراق سے مدّت میں چاہیے
کم سن ابھی ہو عشق و ہوس کی نہیں خبر
تمئیز امتحانِ محبت میں چاہیے
بعدِ فنا بھی یاد کرے اُس کو حشر تک
یہ نوکری زمانہ رخصت میں چاہیے
دل آئے آپ کا تو بڑے بول آگے آئیں
کچھ تو کمی غرور میں نخوت میں چاہیے
دیوانہ میں نہیں ہوں جو دیکھوں بہارِ باغ
اُس کو تو دیکھنا تری صورت میں چاہیے
دولت تمھارے حسن کی جب بے زکوٰۃ ہے
قاروں کے یہ خزانۂ دولت میں چاہیے
دامن فلک کا اور گریباں ہلال کا
دستِ جنوں کے واسطے وحشت میں چاہیے
جنت کی ہے ہوس مجھے دنیا میں جس قدر
دنیا کی آرزو یونہی جنت میں چاہیے
حاتم کا دل ہو۔ دولتِ قاروں ہو، عمرِ خضر
اے داغ یہ کسی کی محبت میں چاہیے

No comments:
Post a Comment