دل دو طرح کا تیری محبت میں چاہیے
راحت میں ایک ایک مصیبت میں چاہیے
اِک اضطرابِ شوق طبیعت میں چاہیے
جو کچھ نہ چاہیے وہ محبت میں چاہیے
کچھ لاگ کچھ لگاؤ طبیعت میں چاہیے
دونوں طرح کا رنگ محبت میں چاہیے
بُت گر سے التجا ہے کہ دے دے بنا کے وہ
پتھر کا دل کسی کی محبت میں چاہیے
صُبحِ شبِ فراق نہ ہو جائے شمع گُل
کوئی شریکِ حال مصیبت میں چاہیے
عمرِ دراز خضر کو کیوں ہو گئی عطا
یہ تو مجھے کسی کی محبت میں چاہیے
کچھ تو پڑے دباؤ دلِ بیقرار پر
پارا بھرا ہوا مری تربت میں چاہیے
جو دن ہیں زندگی کے وہ گزریں ہنسی خوشی
باہم سلوک مہر و محبت میں چاہیے
یہ کیا کہ دونوں صورتِ تصویر بن گئے
تھوڑی سی چھیڑ چھاڑ بھی صحبت میں چاہیے
کیوں ہو گیا بتوں کو مرے دل پہ اختیار
یارب یہ تیرے قبضہ قدرت میں چاہیے
عاشق کے دل پہ زور تمھارا ہے کس قدر
انصاف سے کہو یہ نزاکت میں چاہیے
اٹھکیلیاں ہوں گرد سے کانٹوں سے چھیڑ چھاڑ
سامانِ دل لگی کا یہ وحشت میں چاہیے
انسان عیش میں نہ مصیبت کو بھول جائے
دوزخ کی تاک جھانک بھی جنت میں چاہیے
وہ ابتدائے عشق میں حاصل ہوئی مجھے
جو بات انتہائے محبت میں چاہیے
آئیں گے بیشمار فرشتے عذاب کے
میدان حشر غیر کی تربت میں چاہیے
اپنا بھی کام نکلے وہ ناراض بھی نہ ہوں
ایسے مزے کی بات شکایت میں چاہیے
تجھ پر ہی جان دیجے اگر جان دیجیے
تجھ کو ہی چاہیے کسی حالت میں چاہیے
اے داغ دیکھتے ہیں وہ عہدِ نظام میں
جو انتظام طرز حکومت میں چاہیے

No comments:
Post a Comment