عاشق متحمل نہ ہوئے قہر و غضب کے
بیٹھے رہو اب صبر سمیٹے ہوئے سب کے
آثار ہیں چہرے سے عیاں بزمِ طرب کے
متوالے چلے آتے ہو جاگے ہوئے شب کے
شعلے دل پُر سوز سے اُٹھتے ہیں غضب کے
یہ آگ نہیں وہ جو رہے خاک میں دب کے
ہوتا ہے شریک آپ یہ دُکھ درد میں سب کے
کیا حوصلے ہیں یہ دلِ آزار طلب کے
حیرت ہے کہ یہ خاک دباتی ہے ہوا کو
اِس دل کی کدورت میں رہے سانس بھی دب کے
اُٹھتے ہی پہنچ جاتے ہیں یہ تا درِ مقصود
ہیں دستِ دعا میں بھی چلن پائے طلب کے
اللہ رے کیا پاس رقیبوں کا ہے تم کو
محشر میں طرفدار ہوئے جاتے ہو سب کے
ڈرتے نہیں اب آہ سے وہ دن بھی ہیں کچھ یاد
بجلی کے چمکتے ہی بغل میں مری دب کے
بے وجہ کسی پر کوئی عاشق نہیں ہوتا
ہم عالمِ اسباب میں قائل ہیں سبب کے
اُس مصحفِ رخسار کی فرقت میں ہیں نالاں
ہم کو تُو محرم ہے مہینے میں رجب کے
وہ زندے کو مردہ کرے یہ مردے کو زندہ
وہ چشم کے جادو ہیں یہ اعجاز ہیں لب کے
دربارِ سلاطیں تو نہیں آپ کی محفل
عاشق بھی کہیں کہتے ہیں پابند ادب کے
جو بھید کی باتیں ہیں رقیبوں سے ملیں گی
وہ ہیں مرے مطلب کے وہی ہیں مرے ڈھب کے
وہ چاند سا چہرہ ہے تصور میں ہمارے
ہیں ہجر میں بھی ہم کو مزے وصل کی شب کے
گالوں پہ تھے کچھ نیل کے دھبے مری شامت
پوچھا یہ نشاں کب کے ہیں کہنے لگے اب کے
کیا دل کو دبائے گا ترا کوہِ غمِ عشق
جو مرد دلاور ہیں وہ رہتے نہیں دب کے
دیکھا غمِ فرقت میں تڑپنے کا تماشا
دیدے تھے ندیدے مرے تاروں بھری شب کے
چُن چُن کے مصیبت میں فلک نے اُنھیں ڈالا
خوگر جو ہمیشہ سے رہے عیش و طرب کے
عالم کے مرقع میں جُدا سب کی ہیں شکلیں
قائل نہ ہوں کیوں جن و بشر صنعتِ رب کے
اللہ رے ترا بانکپن اُف رے تری سج دھج
قربان تری گات کے صدقے تری چھب کے
داغوں سے محبت کے ہے دل صورتِ گلزار
اِن پھولوں کی اے داغ بہار آئی ہے اب کے

No comments:
Post a Comment