نقشے ہیں یہ اب دیدہ دیدار طلب کے
رہ جاتی ہے پلکوں میں نگہ ضعف سے دب کے
کس لُطف کے کس دھوم کے کس عیش و طرب کے
یاد آتے ہیں جلسے وہ ہمیں چودھویں شب کے
ہیں نقشِ کفِ پا میں وہ انداز غضب کے
آندھی بھی نکلتی ہے تری راہ سے دب کے
مانندِ نظر جاتے ہیں منزل پہ سُبک رو
دیکھے نہ کبھی نقشِ قدم پائے طلب کے
یا تیسرے فاقے سے بچے حضرت زاہد
یا تیسرے دن پھول ہوئے بنت عنب کے
کافی ہے زمانے کی اسیری کو یہ زنجیر
دل زلف کے حلقوں میں گرفتار ہیں سب کے
مسجد میں تو گنتی کے مسلمان ہی دیکھے
میخانے میں جلوے نظر آئے ہمیں سب کے
جس دن سے کیا گیسوئے شب گوں نے پریشاں
اُس روز سے مضمون نہ باندھے کسی شب کے
وہ دیکھتے ہیں آئینہ میں زلفِ سیہ کو
ہم جانتے ہیں شام بھی اندر ہے حلب کے
رندوں کا ہوں میں دوست تو زہاد کا خادم
وہ کام کا انسان ہے کام آئے جو سب کے
معشوق کا اللہ طرف دار نہ ہو گا
کیا ہوش گئے ہیں دل انصاف طلب کے
سُن سُن کے مرا حال وہ بولے تو یہ بولے
یہ جھگڑے ہیں کس وقت کے یہ قصے ہیں کب کے
مُنہ لگتے ہی اللہ رے غیروں کا تکبر
شیطان نے کیا پھونک دیا کان میں سب کے
اِنکار کے وہ طور کہ دل مفت میں مل جائے
انداز نرالے ہیں ترے حسنِ طلب کے
کیا سخت گھڑی تھی کہ مری آنکھ لڑی تھی
یہ درد یہ آزار یہ آلام ہیں جب کے
اِنسان کو دل دے تو دلیری بھی خدا دے
افسانے ہیں عالم میں شجاعانِ عرب کے
سوتے نہیں اِس وہم سے وہ بسترِ گل پر
ڈالیں تنِ نازک پہ نشاں پھول نہ دب کے
افسانے سُناؤں جو سُنو کان لگا کر
کچھ عیش و طرب کے ہیں تو کچھ رنج و تعب کے
دیکھا نہ کہ آخر کو خراش آئی دہن پر
آئینہ میں بوسے لئے کیوں آپ نے لب کے
مجھ کو تو شبِ وصل میں اس وہم نے گھیرا
تجھ سے یونہی ارمان نکل جائیں گے سب کے
آئینے سے ہے شوق حسینوں کو نہایت
مالک کہیں ہو جائیں نہ یہ شہر حلب کے
اب عاقبتِ کار کی تم خیر مناؤ
بس داغ مزے لُوٹ چکے عیش و طرب کے

No comments:
Post a Comment