مِرے دل کی باتیں کیا جانے۔۔۔ کیا
جانے،
جو دیکھے سبھی جو سُنے نہ کبھی
مرے دل باتیں کیا جانے۔۔۔ کیا جانے،
من باؤلا ہے من چاہے وہی
جو کہی نہ سُنی
یہ جیون گیت انوکھا ہے
کبھی ایک ہی پل میں امر ہو جائے
کبھی یہ سمجھائے
جو روٹھے نہیں کیسے مانے
مرے دل کی باتیں کیا جانے۔۔۔ کیا جانے
(تین رنگ)
٭٭٭
من ہی من میں ہری دیپ جلے
کیوں چنتا ہو اندھیارے کی
سدھ بدھ نہیں سانجھ سکارے کی
اب آٹھ پہر ہم رہتے ہیں اُجیالے کی
چھایا کے تلے
ہری دیپ بھی سُندر ناری ہے
اس بات میں سب سے نیاری ہے
جس من میں جیوتی جاگ اٹھے
وہ بھی اس کے سانچے میں ڈھلے
جس من میں رُوپ بسے اس کا
آنکھیں کس کی درشن کس کا
یہ بھید بتائے کون ابھی آنند سے ہم بھی
نہیں سنبھلے
مت سوچ بٹوہی جیت کہاں
اس راہ میں من کا میت کہاں
یہی دھیان رہے ہر دم دل میں
لوبھی وہ نہیں جو بھی ہوں بھلے
٭٭٭
No comments:
Post a Comment