ایک
وقت تھا دوپٹہ صنف نازک کی پہچان تھا
مگر آج یہ صنف نازک کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
بازار ہو یا شادی کا فنکشن یا کوئی ٹی وی چینل غرض جس جگہ بھی ملاحظہ فرمائیں
خواتین دوپٹے سے جان چھڑاتی نظر آتی ہیں۔
دوپٹہ عورت کے لباس کا ایک اہم جز ہے
مگر بدن صنف نازک پر یہ ایک لاوارث لاش کی طرح پڑا نظر آتا ہے۔
پتا نہیں عورت ذات کو آنچل سے کیا الرجی ہو گئی ہے؟
ایک وقت تھا کہ یہ رنگین آنچل ماحول کو رنگین بناتے تھے۔
آنچل سے ماحول سات رنگی ہو جاتا تھا۔
آج دوُپٹہ ایک فیشن ہے پردہ نہیں۔
عورتوں کی اس حالت کے مرد بھی برابر کے زمےدار ہیں جو پردے کے ذکر پر کہتے ہیں
کہ ہماری بیوی نیک ہے ،
ہمیں اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے
اور پردہ تو نظر کا ہوتا ہے ،
یہاں تک دیکھنے اور سننے میں آیا ہے
کہ بعض مردوں نے اپنی با پردہ بیوی کو مجبور کر کے برقعہ اتروا دیا
اب کوئی ان مردوں سے یہ تو پوچھے
کہ انکی بیوی جتنی بھی نیک پارسا ہو ،
امہات المؤمنين سے بڑھ کر تو نیک ، پارسا اور عبادت گزار تو ہر گز بھی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی ،
جب امہات المؤمنين کو بھی پردے کا حکم تھا تو پھر آج کی عورت کو کیوں نہیں؟
اور پھر عورت کے لفظی معانی ہی پردے کے ہیں !!!
عورت وہ چاند نہیں ہونا چاہئے
جس کو ہر کوئی بےنقاب دیکھے
بلکہ عورت وہ سورج ہونی چاہئے
بازار ہو یا شادی کا فنکشن یا کوئی ٹی وی چینل غرض جس جگہ بھی ملاحظہ فرمائیں
خواتین دوپٹے سے جان چھڑاتی نظر آتی ہیں۔
دوپٹہ عورت کے لباس کا ایک اہم جز ہے
مگر بدن صنف نازک پر یہ ایک لاوارث لاش کی طرح پڑا نظر آتا ہے۔
پتا نہیں عورت ذات کو آنچل سے کیا الرجی ہو گئی ہے؟
ایک وقت تھا کہ یہ رنگین آنچل ماحول کو رنگین بناتے تھے۔
آنچل سے ماحول سات رنگی ہو جاتا تھا۔
آج دوُپٹہ ایک فیشن ہے پردہ نہیں۔
عورتوں کی اس حالت کے مرد بھی برابر کے زمےدار ہیں جو پردے کے ذکر پر کہتے ہیں
کہ ہماری بیوی نیک ہے ،
ہمیں اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے
اور پردہ تو نظر کا ہوتا ہے ،
یہاں تک دیکھنے اور سننے میں آیا ہے
کہ بعض مردوں نے اپنی با پردہ بیوی کو مجبور کر کے برقعہ اتروا دیا
اب کوئی ان مردوں سے یہ تو پوچھے
کہ انکی بیوی جتنی بھی نیک پارسا ہو ،
امہات المؤمنين سے بڑھ کر تو نیک ، پارسا اور عبادت گزار تو ہر گز بھی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی ،
جب امہات المؤمنين کو بھی پردے کا حکم تھا تو پھر آج کی عورت کو کیوں نہیں؟
اور پھر عورت کے لفظی معانی ہی پردے کے ہیں !!!
عورت وہ چاند نہیں ہونا چاہئے
جس کو ہر کوئی بےنقاب دیکھے
بلکہ عورت وہ سورج ہونی چاہئے
جسے
دیکھنے سے پہلے ہی آنکھ جھک جائے!
No comments:
Post a Comment