یگانہ
چنگیزی )مرزا واجد حسین یاس)
(1883-1956)
یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا واجد حسین
تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہوگئے۔ ان کے اجداد ایران سے
ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں
جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔
بیسویں صدی کے نصف اول میں اردو شاعری
کے میدان میں جن افراد نے شہرت حاصل کی ان میں یاس یگانہؔ چنگیزی کا نام بھی خاص
طور سے قابلِ ذکر ہے ۔البتہ یہ بات الگ ہے کہ ان کو جتنی مقبولیت اپنی شاعری سے
حاصل ہوئی ،اس سے زیادہ شہرت ’’غالب شکن‘‘ ہونے کے باعث نصیب ہوئی۔ ان کی شاعری اور
شخصیت کا ایک مخصوص رنگ ہے۔ ان کا تعلق کسی دبستان سے نہیں تھا۔ روزمرہ، محاورے،
زبان اور لفظوں کے در و بست پر انہیں بڑی قدرت حاصل تھی۔ اسی سے اردو شاعری میں
انہوں نے اپنی طبیعت کی جولانیاں خوب دکھائیں۔
یگانہؔ چنگیزی 27 ذی الحجہ 1301ھ مطابق
17 اکتوبر 1884ء کو پٹنہ کے محلے مغل پورہ میں پیدا ہوئے۔ پانچ چھ سال کی عمر میں
مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن
اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے
تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا ۔ 1904ء میں
مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب
علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن
کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے
میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں
کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
یگانہ چنگیزی نے تین یا چار فروری سنہ 1956ء کو داعی
اجل کو لبیک کہا۔

No comments:
Post a Comment