دل بھی
جگر بھی آتش غم سے جھلس گئے
مانند
ابر ان پہ نہ آنسو برس گئے
مہماں
سرائے دہر میں دس آئے دس گئے
اتنا
مگر ہے فرق کہ کچھ پیش و پس گئے
جس وقت
میں نے توبہ کا سامان کر لیا
کچھ
بادل آسمان پر آ کر برس گئے
کھوٹے
کھرے کی عشق میں پہچان ہو گئی
اچھے ہم
امتحاں کی کسوٹی پہ کس گئے
دلِ تنگ
تر، ہجومِ غم و رنج بے شمار
اِس گھر
مین جتنے آئے تھے مارے وہ بس گئے
رہ رو
سے فرط شوق میں چھُوٹا ہے قافلہ
ہم آگے
آگے مثلِ صدائے جرس گئے
کیوں
آشیاں نہ آتشِ گل نے جلا دیا
برباد
عندلیب کے سب خار و خس گئے
میدانِ
امتحان میں نہ ٹھہرا ذرا کوئی
گو کر
کے حوصلہ بُہت اہل ہوس گئے
لکھیں
جو اور کچھ یہ ہماری مجال کیا
اتنا ہی
لکھ کے بھیج دیا ہے ترس گئے
سب آئے
اُن کی بزم سے اُن کا پتہ نہیں
کیا
جانے جا کے داغ کس آفت میں پھنس گئے

No comments:
Post a Comment