شوخی سے قرار اُس کو کہیں دل میں نہیں ہے
یہ چاند وہ ہے جو کسی منزل میں نہیں ہے
کہتے ہو کوئی میرے مقابل میں نہیں ہے
دیکھو تو ذرا غور سے اِس دل میں نہیں ہے
اللہ مددگار ہے رہبر ہے ہمارا
رہزن کا خطر عشق کی منزل میں نہیں ہے
خورشید کی مانند ہیں روشن ترے رخسار
کچھ شمع کی حاجت تری محفل میں نہیں ہے
اِتنے بھی ترے جلوے سے محروم ہیں آنکھیں
چلمن کی جھلک پردہ حائل میں نہیں ہے
بے جرم کیا قتل تو بیتاب نہ ہو گا
بسمِل کی تڑپ کیا دلِ قاتل میں نہیں ہے
جلتے ہیں جو پروانے تو اُف بھی نہیں کرتے
یہ صبر و تحمل تو عنا دل میں نہیں ہے
رگ رگ مری گردن کی پھڑکتی ہے الٰہی
افسوس کہ خنجر کفِ قاتل میں نہیں ہے
رکھنے دے مجھے ہاتھ کہ میں سوزِ محبت
دیکھوں تو سہی ہے کہ ترے دل میں نہیں ہے
جل جل کے فلک کو بھی وہیں آگ لگاتا
یہ داغ جگر کا مہِ کامل میں نہیں ہے
اس دام سے کاکل کے نہ نکلے گا میرا دل
جکڑا ہوا لوہے کی سلاسِل میں نہیں ہے
جو جس کی ہے قسمت میں وہ ملتا ہے اُسی کو
جو داغ جگر میں ہے مرے دل میں نہیں ہے
ظالِم وہ ترے خوف سے لب پر نہیں آتا
ہونے کو تو کیا کیا دلِ بسمل میں نہیں ہے
خاموش اُٹھاتا ہے یہ طوفان کے صدمے
گویا ہو یہ قدرت لبِ ساحل میں نہیں ہے
بیحد ہیں الٰہی درمِ داغِ محبت
قاروں کا خزانہ تو مرے دل میں نہیں ہے
اک رند نے صوفی سے کہا دل نہیں لگتا
رقصِ مے و مطرب تری محفل میں نہیں ہے
ہر رنگ میں ہے اور جدا رنگ ہے تیرا
ہر دل میں ہے تو! اور کسی دل میں نہیں ہے
تمکیں اُسے روکے تو کشش قیس کی کھینچے
محمِل میں ہے لیلی کبھی محمل میں نہیں ہے
یہ چیز عجب چیز ہے یہ لطف عجب لطف
جینے کا مزا کیا جو مزا دل میں نہیں ہے
ایذا طلب ایسا ہوں جو درد کسی کے
کہتا ہوں یہ افسوس مرے دل میں نہیں ہے
تو دل میں نہیں ہے تو مرے دل میں ہے کیا کچھ
تو دل میں ہے میرے تو کوئی دل میں نہیں ہے
آسان وہ کر دے گا دعا وصل کی مانگو
اے داغ یہ مشکل کسی مشکل میں نہیں ہے

No comments:
Post a Comment