غیر مطبوعہ اشعار
یادگار داغ
یہ تو دنیا
ہے قیامت تو نہیں جو طے ہو
کفر و
اسلام کا آپس میں یہ جھگڑا کیسا
سعی ہے
شرط مگر سعی سے ہوتا کیا ہے
جب مقدر
میں نہ ہو نفع تو پینا کیسا؟
دین و
دنیا کا نہیں ہوش ہوا ہے غافل
داغؔ بے
خود کا ہے یہ حال خدایا کیسا؟
میری
آنکھوں سے جو بہتے ہیں گلابی آنسو
خون دل
کا نہ سہی خونِ تمنا ہو گا
خیر
بہتر ہے رہے حشر پہ جھگڑا موقوف
ہاتھ
میرا تو گریباں تمھارا ہو گا
پروانوں
کے پیروں کا ہوا ڈھیر صبح تک
زیبا ہے
گر ہوں انھیں شمع لگن کے پھول
ہو گیا
ہے یادِ مژگاں میں جنوں
تنکے چنتے پھرتے ہیں صحرا میں ہم
ہوش اُڑا لے جائے گی اپنے پری
دیکھتے ہیں ساغر و مینا میں ہم
مہربانی ہے کہاں ،لطف کہاں، وصل کہاں
آئے ہو دل کو ستانے تمھیں ہم جانتے ہیں
اگلے وقتوں کی یہ باتیں ہیں تمھاری ناصح
تم تو ہو گھاگ پرانے تمھیں ہم جانتے ہیں
مسیحا ہو کہ لقماں سب کی حکمت دیکھی بھالی ہے
نہ جانے جو علاج عشق مرا چارہ گر کیا ہو
ملا رکھا ہے اپنے سے نگہباں اور درباں کو
ہوا ہے غیر ہرجائی تمھیں ان کی خبر کیا ہو
ہمارے ایک مشفق مٹ گئے ہیں دختر رز پر
مزاج اُس کا ہے آوارہ طبیعت لا اُبالی ہے
کسے نہیں مرے پائے فگار کا صدمہ
کہ پھوٹ پھوٹ کے ہر آبلہ بھی روتا ہے
جو داغ پر گزرتی ہے تم جانتے نہیں
روشن ہے اس کا نام سواآفتاب سے
نہیں جمتا ہے خیال ایک حسیں پر ہر گز
کام میرے مری آشفتہ سری آتی ہے
اگلی سرسبزی عالم وہ بسی آنکھوں میں
خشک کھیتی بھی نظر مجھ کو ہری آتی ہے
داورِ حشر کا انصاف جو میں سنتا ہوں
یاد مجھ کو تری بیداد گری آتی ہے
نہ صبا پر ہے بھروسہ نہ مجھے قاصد پر
ہر کسی کو کہیں پیغامبری آتی ہے
تمھیں چہرے سے نقاب اپنے الٹ دو ورنہ
نگہ شوق کو بھی رخنہ گری آتی ہے
صاف کہتا ہوں ترے منہ پہ کہ تو ہے عیار
بات کھوٹی نہیں آتی ہے کھری آتی ہے
سانس کے ساتھ ہی داغِ دلِ افسردہ کی بو
روشنی صورت شمع سحری آتی ہے
اے فلک اور بھی آتا ہے کوئی کام تجھے
یا قیامت کی فقط فتنہ گری آتی ہے
داغ رہتا ہے اسی فکر میں غم گین و حزیں
مجھ کو کیا بات بجز بے ہنری آتی ہے
قطعہ
اب تم سے کہوں جو کچھ ہے مرے جی میں
سب تم سے کہوں جو کچھ ہے میرے جی میں
پہلے یہ کہو کہ میں نہ مانوں گا برا
جب تم سے کہوں جو کچھ ہے مرے جی میں
وہ تو ہو ہم پر اگر یہ مہرباں ہوتا نہیں
اسماں پر دوسرا کیا آسماں ہوتا نہیں
ہم وہاں پہنچیں نہ پہنچیں یہ تو پہنچے گا ضرور
ناتوانوں کا تصور ناتواں ہوتا نہیں
*ترکِ عادت سے مجھے نیند نہیں آنے کی
کہیں نیچا نہ ہو اے گور سرہانہ تیرا

No comments:
Post a Comment