تمہارا
دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ
ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
کسی کو
چین کیا اے بندہ پرور ہو نہیں سکتا
جو تم
چاہو تو ہو سکتا ہے کیونکر ہو نہیں سکتا
کبھی
ناصح کی سُن لیتا ہوں پھر برسوں تڑپتا ہوں
کبھی
ہوتا ہے مجھ سے صبر اکثر ہو نہیں سکتا
نہ دے
وہ داد اگر میری تو یہ ہے سخت مجبوری
کہ بندے
کا تو کچھ دعویٰ خدا پر ہو نہیں سکتا
یہ ممکن
ہے کہ تجھ پر ہو بھی جائے اختیار اپنا
مگر
قابو ہمارا اپنے دل پر ہو نہیں سکتا
جلائے
گی مجھے کیا خاک یارب آگ دوزخ کی
کہ جس
سے خشک میرا دامن تر ہو نہیں سکتا
جفائیں
جھیل کر عاشق کریں معشوق کو ظالِم
وگرنہ
بے سبب کوئی ستمگر ہو نہیں سکتا
وہ کیا
کیا کوستے ہیں بیٹھ کر اپنی نزاکت کو
بپا
رفتار سے اُن کی جو محشر ہو نہیں سکتا
تلوّن
ہے طبیعت کا کہ یہ شوخی ہے طینت کی
کوئی
وعدہ کا دن تجھ سے مقرر ہو نہیں سکتا
جفائیں
داغ پر کرتے ہیں وہ یہ بھی سمجھتے ہیں
کہ ایسا
آدمی مجھ کو میّر ہو نہیں سکتا
یہ جلسے
جیتے جی کے ہیں اگر دم ہے تو سب کچھ ہے
کہ بہتر
زندگی سے کوئی میلا ہو نہیں سکتا

No comments:
Post a Comment