Wednesday, 15 March 2017

رام پرساد بسمل کا تعارف ، حالات زندگی Ram Prasad Bismil A Famous Urdu Poetess poetry

 
رام پرساد بسمل 

(1897-1927)

رام پرساد بسمل اس آڈیو کے متعلق تلفظ معاونت·معلومات( پیدائش : 11 جون، 1897ء - : 19 دسمبر، 1927ء ) ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے۔ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔
وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔ 11 جون 1897ء (ہندو جنتری کے مطابق بروز جمعہ نرجلا ایکادشی بكرمی سن 1954) کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ رام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء (پیر پوش کرشن نرجلا ایکادشی (جسے سپھل ایکادشی بھی کہا جاتا ہے) بكرمی سن 1984) کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔
بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔
11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابی لکھی جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔
بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔
بسمل کے دادا نارائن لال کا آبائی گاؤں بربائی تھا جو اس وقت ریاست گوالیر میں دریائے چمبل کے بیهڑو کے درمیان واقع تومرگھار علاقے کے مورینا ضلع ( موجودہ مدھیہ پردیش ) میں آج بھی ہے۔ بربائی کے دیہاتی بڑے ہی غیرملنسار فطرت کے تھے۔ وہ آئے دن انگریزوں اور ان کے قبضہ والے دیہاتیوں کو تنگ کرتے تھے۔ خاندانی اختلاف کی وجہ سے نارائن لال نے اپنی بیوی وچترا دیوی اور دونوں بیٹوں مرلیدھر اور كلیان مل سمیت اپنا آبائی گاؤں چھوڑ دیا۔
 ان کے گاؤں چھوڑنے کے بعد بربائی میں صرف ان کے دو بھائی - امن سنگھ اور سمان سنگھ ہی رہ گئے جن کے خاندان آج بھی اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ آج بربائی گاؤں کے ایک پارک میں مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے رام پرساد بسمل کا ایک مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مورینا میں بسمل کا ایک مندر بھی بنا دیا گیا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خاندان اترپردیش کے تاریخی شہر شاہجہاں پور آ گیا۔ شاہجہاں پور میں منوگنج کے دروازے کے قریب واقع ایک عطار کی دکان پر صرف تین روپے ماہانہ پر نارائن لال نے نوکری کر لی۔ اتنے کم پیسے میں ان کے خاندان کا گزارا نہ ہوتا تھا۔ دونوں بچوں کو روٹی بنا کر دی جاتی لیکن شوہر اور بیوی نصف بھوکے پیٹ ہی پر گزارا کرتے۔ ساتھ ہی کپڑوں اور کرایہ کا مسئلہ بھی تھا۔ بسمل کی دادی وچترا دیوی نے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے کے لیے مزدوری کرنے پر غور کیاتھا، لیکن نامعلوم خاتون کو کوئی بھی آسانی سے اپنے گھر میں کام پر نہ رکھتا تھا۔ آخر انہوں نے اناج پیسنے کا کام شروع کر دیا۔ اس کام میں ان کو تین چار گھنٹے اناج پیسنے کے بعد ایک یا ڈیڑھ پیسہ مل جاتا تھا۔ یہ سلسلہ تقریبا دو تین سال تک چلتا رہا۔
نارائن لال تھے تو تومر ذات کے چھتریہ لیکن ان کے افکارواعمال، سنجیدگی اور مذہبی رجحان کی وجہ سے مقامی لوگ اکثر انہیں " پنڈت جی " ہی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس سے انہیں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا تھا کہ ہر تہوار پر دان دکشنا اور کھانے وغیرہ گھر میں آ جایا کرتے تھے۔ اسی درمیان نارائن لال کو مقامی باشندوں کی مدد سے ایک اسکول میں سات روپیے ماہانہ پر نوکری مل گئی۔ کچھ وقت بعد انہوں نے یہ کام بھی چھوڑ دیا اور ریزگاری ( ایک آنہ - دو آنہ - چونی کے سکے ) فروخت کرنے کا کاروبار شروع کر دیا۔ اس سے انہیں روزانہ پانچ - سات آنے کی آمدنی ہونے لگی۔ اس سے ان کی معاشی حالت سدھرنے لگی۔ نارائن لال نے رہنے کے لیے ایک مکان بھی شہر کے كھرنی باغ محلے میں خرید لیا اور بڑے بیٹے مرلی دھر کی شادی اپنے سسرال والوں کے خاندان کی ہی ایک نیک طینت مول متی سے کر کے اسے اس نئے گھر میں لے آئے۔ گھر میں بہو کے قدم پڑتے ہی بیٹے کی بھی قسمت بدلی اور مرلی دھر کو شاہجہاں پور کی بلدیہ میں 15 روپیے ماہانہ تنخواہ پر نوکری مل گئی۔ لیکن انہیں یہ کام پسند نہیں آیا۔ کچھ دن بعد انہوں نے ملازمت ترک کرکے کچہری میں سٹامپ پیپر فروخت کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اس کاروبار میں انہوں نے اچھا خاصا پیسہ کمایا۔ تین بیل گاڑیاں کرایہ پر چلنے لگیں اور سود پر روپیہ بھی دینے لگے۔
جون 1897ء کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور شہر کے كھیرنی باغ محلے میں پنڈت مرلیدھر کی بیوی مولمتی کے بطن سے پیدا ہوئے بسمل اپنے ماں باپ کی دوسری اولاد تھے۔ ان سے پہلے ایک بیٹے پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا۔ بچے کا زائچہ اور دونوں ہاتھ کی دسوں انگلیوں کی گولائی دیکھ کر ایک نجومی نے پیش گوئی کی تھی۔ " اگر اس بچے کی زندگی کسی طرح کی نظریاتی بندش سے بچی رہے، جس کا امکان بہت کم ہے، تو اسے عنان حکومت سنبھالنے سے دنیا کی کوئی بھی طاقت روک نہیں پائے گی۔
ماں باپ دونوں ہی زائچہ کے ستارے "اسد" کے حامل تھے اور بچہ بھی یہی صفت رکھتاتھا۔ لہذا نجومی نے بہت سوچ بچار کرکے زائچہ کے اعتبار سے میزان کے حرف نام "ر" ہی پر نام رکھنے کا مشورہ دیا۔ ماں باپ دونوں ہی رام کے پرستار تھے، لہذا بچے کا نام رام پرساد رکھا گیا۔ ماں مول متی تو ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ انہیں رام جیسا بیٹا چاہیے تھا سو رام نے ان کی عبادت سے خوش ہو کر پرساد کے طور پر یہ بیٹا دیا، ایسا یہ لوگ مانتے تھے۔ بچے کو گھر میں تمام لوگ محبت سے رام کہ کر ہی پکارتے تھے۔ رام پرساد کی پیدائش سے قبل ان کی ماں ایک بیٹے کو کھو چکی تھیں لہذا جادو ٹونے کا سہارا بھی لیا گیا۔ ایک خرگوش لایا گیا اور نوزائیدہ بچے کے اوپر سے اتار کر آنگن میں چھوڑ دیا گیا۔ خرگوش نے آنگن کے دو چار چکر لگائے اور فورًا مر گیا۔ یہ واقعہ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن حقیقی واقعہ ہے اور تحقیق کا موضوع ہے۔ اس کا ذکر رام پرساد بسمل نے خود اپنی آپ بیتی میں کیا ہے۔ مرلیدھر کے کل 9 اولادیں ہوئیں جن میں پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔ رام پرساد ان کی دوسری اولاد تھے۔ آگے چل کر دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کا بھی انتقال ہو گیا۔
عالم طفلی ہی سے رام پرساد کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جانے لگی۔ جہاں کہیں وہ غلط حروف لکھتا، اس کی خوب پٹائی کی جاتی لیکن اس میں شوخی اور شرارت بھی کم نہ تھی۔ موقع پاتے ہی پاس کے باغ میں گھس کر پھل وغیرہ توڑ لاتا تھا۔ شکایت آنے پر اس کی پٹائی بھی ہوا کرتی لیکن وہ شیطانی سے باز نہیں آتا تھا۔ اس کا دل کھیلنے میں زیادہ لیکن پڑھنے میں کم لگتا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کے والد تو اس کی خوب پٹائی لگاتے لیکن ماں ہمیشہ اسے پیار سے یہی سمجھاتی کہ بیٹا رام ! یہ بہت بری بات ہے مت کرو۔ اس محبت بھری سیکھ کا اس کے دل پر کہیں نہ کہیں اثر ضرور پڑا۔ اس کے والد نے پہلے ہندی حروف شناسی کرائی لیکن ہندی حرف (اُ) سے الو نہ تو اس نے پڑھنا سیکھا اور نہ ہی لکھ کر دکھایا۔ ان دنوں ہندی کے حروف تہجی میں " (اُ) سے الو " ہی پڑھایا جاتا تھا۔ اس بات کی وہ مخالفت کرتا تھا اور بدلے میں والد کی مار بھی کھاتا تھا، ہار کر اسے اردو کے اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ شاید یہی فطرتی خصوصیات رام پرساد کو ایک انقلابی بنا پائیں۔ یعنی وہ اپنے خیالات میں پیدائش سے ہی بڑا پکا تھا۔
تقریبًا 14 سال کی عمر میں رام پرساد کو اپنے والد کے صندوقچے سے رقم چرانے کی لت پڑ گئی۔ چرائے گئے روپے سے اس نے ناول وغیرہ خرید کر پڑھنا شروع کر دیا اور سگریٹ پینے اور بھانگ چڑھانے کی عادت بھی پڑ گئی تھی۔ مجموعی طور پر روپیے چوری کا سلسلہ چلتا رہا اور رام پرساد اب اردو کے عشق یہ ناولوں اور غزلوں کی کتابیں پڑھنے کا عادی ہو گیا تھا۔ اتفاق سے ایک دن بھانگ کے نشے میں ہونے کی وجہ سے رام پرساد کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔ خوب پٹائی ہوئی، ناول اور دیگر کتابیں پھاڑ ڈالی گئی لیکن روپیے چرانے کی عادت نہیں چھوٹی۔ آگے چل کر جب ان کو تھوڑی سمجھ آئی تبھی وہ اس لت سے آزاد ہو سکے۔
رام پرساد نے اردو مِڈِل کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر انگریزی پڑھنا شروع کیا۔ ساتھ ہی پڑوس کے ایک پجاری نے رام پرساد کو پوجا کا طریقہ کار کا علم کروا دیا۔ پجاری ایک سلجھی ہوئی علمی شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی شخصیت کا اثر رام پرساد کی زندگی پر بھی پڑا۔ پجاری کی تعلیمات کی وجہ سے رام پرساد پوجا کے ساتھ تجرد پر عمل کرنے لگا۔ پجاری کی دیکھا دیکھی رام پرساد نے ورزش کرنا بھی شروع کر دیا۔ سن بلوغ کی جتنی بھی بری عادات ذہن میں تھیں وہ بھی چھوٹ گئی۔ صرف سگریٹ پینے کی لت نہیں چھوٹی۔ لیکن وہ بھی کچھ دنوں بعد اسکول کے ایک ہم درس سشیل چندر سین کی مصاحبت سے چھوٹ گئی۔ سگریٹ چھوٹنے کے بعد رام پرساد کا من پڑھائی میں لگنے لگا۔ بہت جلد ہی وہ انگریزی کے پانچویں درجے میں آ گیا۔
رام پرساد میں غیر متوقع تبدیلی ہو چکی تھی۔ جسم خوبصورت اور طاقتور ہو گیا تھا۔ وہ باقاعدہ پوجا میں وقت گزارنے لگا تھا۔ اسی دوران مندر میں آنے والے نمائندے اندرجیت سے اس کا رابطہ ہوا۔ منشی اندرجیت نے رام پرساد کو آریہ سماج کے بارے میں بتایا اور سوامی دیانند سرسوتی کی لکھی کتاب ستیارتھ پرکاش پڑھنے کو دی۔ ستیارتھ پرکاش کے سنجیدہ مطالعے سے رام پرساد کی زندگی پر حیرت انگیز اثر پڑا۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے       
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسماں        
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے؟

رہروئے راہ محبت! رہ نہ جانا راہ میں           
 لذّت صحرانووردی دوری منزل میں ہے

کھینچ کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید           
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہ قاتل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارمانوں کی بھیڑ        
ایک مٹ جانے کی حسرت اب دل 'بسمل' میں ہے



اپنی قسمت میں اجل ہی سے ستم رکھا تھا             
رنج رکھا تھا محن رکھی تھی غم رکھا تھا  
              
کس کو پرواہ تھی اور کس میں یہ دم رکھا تھا                     
ہم نے جب وادی غربت میں قدم رکھا تھا   
                   
دور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو                
اپنا کچھ غم نہیں لیکن یہ خیال آتا ہے       
         
مادر ہند پہ کب تک یہ زوال آتا ہے                   
قومی آزادی کا کب ہند پہ سال آتا ہے     
           
قوم اپنی پہ تو رہ رہ کے ملال آتا ہے                    
منتظر رہتے ہیں ہم خاک میں مل جانے کو
                     
نوجوانوں! جو طبیعت میں تمہاری کھٹکے               
یاد کر لینا کبھی ہم کو بھی بھولے بھٹکے   
                
آپ کے عضو بدن ہوویں جدا کٹ کٹ کے                    
اور صد چاک ہو ماتا کا کلیجہ پھٹ کے  
                
پر نہ ماتھے پہ شکن آئے قسم کھانے کو                 
ایک پروانے کا بہتا ہے لہو نس نس میں  
             
اب تو کھا بیٹھے ہیں چتوڑ کے گڑھ کی قسمیں                      
سرفروشی کی ادا ہوتی ہیں یوں ہی رسمیں
            
بھائی خنجر سے گلے ملتے ہیں سب آپس میں                       
بہنیں تیار چتاؤں سے لپٹ جانے کو 
                 
سر فدا کرتے ہیں قربان جگر کرتے ہیں              
پاس جو کچھ ہے وہ ماتا کی نظر کرتے ہیں     
          
خانہ ویران کہاں دیکھیے گھر کرتے ہیں               
خوش رہو اہل وطن! ہم تو سفر کرتے ہیں    
        
جا کے آباد کریں گے کسی ویرانے کو                 
نوجوانو ! یہی موقع ہے اٹھو کھل کھیلو
                
خدمت قوم میں جو آئے بلا سب جھیلو               
دیش کے واسطے سب اپنی زبانیں دے دو 
                      
پھر ملیں گی نہ یہ ماتا کی دعائیں لے لو                  
دیکھیں کون آتا ہے یہ فرض بجا لانے کو

بسمل کی آخری تخلیق

مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا          
دل کی بربادی کے بعد ان کا پیام آیا تو کیا 

مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال        
 اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا

اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں              
 پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا

کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے             
 یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا


آخری شب دید کے قابل تھی 'بسمل' کی تڑپ        
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا


No comments:

Post a Comment

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)