اب تیرے
کام کی بھی نزاکت نہیں رہی
دل
توڑنے کے واسطے طاقت نہیں رہی
تغیر
حال زار کی تاثیر دیکھنا
میری
شبیہ کی بھی وہ صورت نہیں رہی
دیکھو
جفا کے بعد تو دل چیر کر مرا
باقی
رہی کہ اس میں محبت نہیں رہی
جب یہ
سمجھ لیا کہ جفا کام ہے ترا
پھر مجھ
کو تجھ سے کوئی شکایت نہیں رہی
جس
روز سے ہمیں دل بے مدعا ملا
دنیا
میں کوئی ہم کو ضرورت نہیں رہی
ایسی
جفا اُٹھا کے تری چاہ پھر کروں
مجبور
ہو گیا مری ہمت نہیں رہی
اب
تمکنت سمائی تمھارے مزاج میں
وہ
چُلبلی ادا وہ شرارت نہیں رہی
جیسے
تھے وہ کھچے اُنھیں لانا تھا کھینچ کر
تاثیر
تجھ میں جذبِ محّبت نہیں رہی
انسان
کے لئے ہے بڑی چیز آبرو
کیا
عاشقی کا لطف جو عزت نہیں رہی
محفل
میں اُن کی رات کو یہ رعب داب تھا
پروانے
کی بھی شمع سے صحبت نہیں رہی
اچھا
ہوا کہ مرگِ عدو پر پئے جو اشک
دل میں
ترے کسی کی کدورت نہیں رہی
دعوائے
عشق اور تنک ظرف بھی کریں
کیفیتِ
شراب محبت نہیں رہی
بزمِ
عدو میں انجمن آرا تو وہ رہا
سُنتے
ہیں ہم کہ لطف کی صحبت نہیں رہی
ایسا
ہوں محوِ لذتِ دیدار ِ یار اب
میرے
خیال میں مری صورت نہیں رہی
سب کچھ دیا
ہے داغ کو شاہِ نظام نے
آبائی
اُس کی گرچہ ریاست نہیں رہی

No comments:
Post a Comment