دودِ دل
ساتھ آہ لیتی ہے
ہم سفر
کو نباہ لیتی ہے
ٹیڑھ کی
وہ نگاہ لیتی ہے
بل کی
زلفِ سیاہ لیتی ہے
تو ستم
بھی کرے تو خلقِ خدا
اپنے
ذمے گناہ لیتی ہے
دل جو
لیتا ہے عشق کا رستہ
جان بھی
اپنی راہ لیتی ہے
تم خبر
لو مری وگرنہ خبر
آسماں
کی یہ آہ لیتی ہے
بخشوانے
کو جرم اُن کی بلا
منت داد
خواہ لیتی ہے
شب فرقت
سے کون لے بدلا
جان یہ
روسیاہ لیتی ہے
کیوں
ستاتی ہے گردشِ گردوں
کیوں
غریبوں کی آہ لیتی ہے
دل کو
لیتی ہے یوں صفِ مژگاں
قلعہ
جیسے سپاہ لیتی ہے
خون
عاشق کے دل کا پی پی کر
کیا مزے
تیری چاہ لیتی ہے
آرزو
تیغِ یاس سے ڈر کر
میرے دل
میں پناہ لیتی ہے
کیوں نہ
بے تاب ہو ہمارا دل
صبر
تیری نگاہ لیتی ہے
کس کس
اہل سخن سے دیکھیں داغ
یہ غزل
واہ واہ لیتی ہے

No comments:
Post a Comment