اللہ ہی اللہ ہے خم خانے میں کیا ہے
لو برہمنو جاتے ہیں کہ اپنا بھی خدا ہے
بگڑی ہوئی کچھ ایسی زمانے کی ہوا ہے
دل زلفِ پریشان سے پریشان سوا ہے
یہ جرمِ وفا پر مجھے ارشاد ہوا ہے
بخشے جو تجھے بخشنے والے کی خطا ہے
اب داغ کے احوال سے مطلب تمھیں کیا ہے
اچھا ہے تو اچھا ہے بُرا ہے تو بُرا ہے
کس بات پہ ہم رشکِ مسیحا تمھیں جانیں
دم باز تمھارا لبِ اعجاز نما ہے
تو ہاتھ ذرا کھول کہ میں آنکھ سے دیکھوں
دل ہے کہ ستمگر تری مٹھی میں قضا ہے
کھولے ہیں اسیری میں تری زلف کے پھندے
میرا دلِ آزاد بھی کیا عقدہ کُشا ہے
میخانے کو جاتا تھا چھُپے چوری سے
زاہد
للکار کے میں نے یہ کہا ” دیکھ لیا ہے”
مختار ہے تو اپنا تو خم ہے سرِ تسلیم
مرضی وہی عاشق کی ہے جو تیری رضا ہے
کیوں درد کو دل کے نہ کلیجے سے لگا لوں
اس نے ہی پسِ مرگ مرا ساتھ دیا ہے
یہ مجھ سے کہا شکوہ بیداد پر اُس نے
تجھ کو کسی معشوق سے پالا بھی پڑا ہے
سب عیش کے سامان بگڑ جاتے ہیں بن کر
کیا خانہ خرابی نے یہ گھر دیکھ لیا ہے
گہرے ہیں رقیبوں کے تو کچھ غم نہیں ہم کو
نکلیں گے سُبک ہو کے کوئی دم کی ہوا ہے
نسبت تری آبرو سے ہو کیونکر مہِ نو کو
یہ حُسن میں مشہور وہ انگشت نما ہے
فرصت ہے کہاں فکرِ سخن کی ہمیں دم بھر
مجبور ہیں اِس سے کہ تقاضائے وفا ہے
میخانے میں فتویٰ ہے یہی پیرِ مغاں کا
سب عہدِ جوانی میں جوانوں کو روا ہے
محشر میں اگر جائے ہماری شبِ فرقت
خورشیدِ قیامت کہے یہ کون بلا ہے
آرام سا آرام دیا داغ کو دن رات
آباد رہیں حضرتِ آصف یہ دُعا ہے

No comments:
Post a Comment