اُنھیں نفرت ہوئی سارے جہاں سے
نئی دُنیا کوئی لائے کہاں سے
ترے ہاتھوں غبارِ کشتگاں سے
زمیں ٹکرا رہی ہے آسماں سے
کھُلا کب مدعا اُن کے بیاں سے
زبانی خرچ تھا خالی زباں سے
پریشاں وہ اُٹھے خوابِ گراں سے
مری فریاد ہے آہ و فغاں سے
نہیں وہ صاف اپنے راز داں سے
خدا پالا نہ ڈالے بد گماں سے
وہ توڑیں عہد لیکن فکر یہ ہے
خدا نکلے گا کیوں کر درمیاں سے
تمھاری بات لگتی ہے مجھے تیر
نگہ کا کام لیتے ہو زباں سے
گئے کیوں توبہ کر کے اُس طرف ہم
کہ شرمانا پڑا پیرِ مغاں سے
ذرا نرمی بھی کر اے سخت جانی
تھکا جاتا ہے قاتل امتحاں سے
مجھے مہماں تو کر لو ہم صفیرو
جو ٹوٹی شاخ بارِ آشیاں سے
سگِ لیلی بھی تھا مجنوں کو پیارا
لگاوٹ کر رہا ہوں پاسباں سے
کہوں کیوں کر تری باتیں ہیں جھوٹی
زباں پکڑی نہیں جاتی زباں سے
تسلی کو دلِ افسردہ کی ہم
گلِ پژ مردہ لائے بوستاں سے
چھُپا پھولوں میں اے بادِ بہاری
مجھے کھٹکا ہے خارِ آشیاں سے
خبر ادنی کی ہے اعلیٰ کو معلوم
زمیں کی پوچھتا ہوں آسماں سے
لگا ہے سنگِ مقناطیس گویا
جبیں اُٹھتی نہیں اُس آستاں سے
سوالِ وصل پر چُپ ہو رہے ہیں کیوں
زباں کا کام لیتے ہیں زباں سے
فرشتے دفترِ عصیاں نہ لکھیں
نہ اُٹھے گا یہ دوشِ ناتواں سے
اُنھیں جس بات سے تھی سخت نفرت
وہی بے ساختہ نکل زباں سے
عدو بھی اب تو مجھ پر رحم کھا کر
سفارش کر رہے ہیں آسماں سے
لگا رکھئے گا دم جھانسوں میں دو چار
کہ پھر مشتاق آئیں گے کہاں سے
نظر پر کیوں چڑھا کر مجھ کو پٹکا
گرایا کیوں زمیں پر آسماں سے
اگر ہو آنکھ تو سرمہ بنائیں
خضر بھی میری گردِ کارواں سے
بشر کیوں کر نہ دیکھیں حُسن تیرا
فرشتے جھانکتے ہیں آسماں سے
جہاں کے ہو رہے بس ہو رہے ہم
قفس بھی کم نہیں ہے آشیاں سے
لڑائیں گے زباں اُمید یہ تھی
مگر لڑنے لگے وہ تو زباں سے
بنا دے کوئی مسجد بتکدے پر
کہ دہرا فیض ہو دُہرے مکاں سے
کہے دیتے ہیں تیور نامہ بر کے
کہ یہ خالی نہیں آیا وہاں سے
مزا ہے اُن سے ہو گی گفتگو تُرش
زباں کے لیں گے چٹخارے زباں سے
پھرے وحشت میں مثل گردِ صحرا
نہ بیٹھے ہم وہاں اُٹھے جہاں سے
وہ کوہِ طور تھا موسیٰ کا حصہ
الٰہی میں تجھے دیکھوں کہاں سے
رسائی کی اگر قسمت نے اپنی
ملیں گے خلد میں خلد آشیاں سے
دلِ بیتاب سے ہے ناک میں دم
الٰہی صبر میں لاؤں کہاں سے
تری در پر جگہ ہے داغ کی گرم
ابھی اُٹھ کر گیا ہے وہ یہاں سے

No comments:
Post a Comment