حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے
اگر چلے تو مجھے سیدھیاں سُنا کے چلے
وہ شاد شاد دمِ صبح مسکرا کے چلے
ستم تو یہ ہے کہ مجھ کو گلے لگا کے چلے
یہ چال ہے کہ قیامت ہے اے بُتِ کافی
خدا کرے کہ یونہی سامنے خدا کے چلے
ہمارے دُودِ جگر میں ذرا نہیں طاقت
یہ ابرِ تر ہے کہ گھوڑے پہ جو ہوا کے چلے
مرے بُجھائے بُجھے گی نہ یہ لگی دل کی
بُجھاتے جاؤ کہاں آگ تم لگا کے چلے
تمھیں ہو چور بھری بزم میں ادھر آؤ
نظر چرائے ہوئے دل کہاں چرا کے چلے
ہوئے ہیں شادی و غم اختیار میں اُن کے
کبھی ہنسا کے چلے وہ کبھی رُلا کے چلے
ہماری خاک کی ڈھیری تمھارے کوچے میں
ذرا لگی تھی کہ جھونکے وہیں ہوا کے چلے
وہ مہماں نہیں ایسے کہ جائیں خالی ہاتھ
کہ جب چلے تو مرے دل کو لے لِوا کے چلے
طریقِ عشق میں سُوجھا کسے نشیب و فراز
وہ کیا چلے جو سہارے پہ رہنما کے چلے
نہیں ہے دل کو مرے صر صرِ فنا سے خطر
یہ کشتی ایسی ہے جو سامنے ہوا کے چلے
بچائیں دل کو کہاں تک ہم ایسے تیروں سے
نگہ نگہ کے چلے ہیں ادا ادا کے چلے
دکھائی دی ہمیں راہِ عدم جو تیرہ و تار
ہم اپنی مشعلِ داغِ جگر جلا کے چلے
پڑی جو اُس کی نظر دل تڑپ کے یوں نکلا
کہ جس طرح کوئی نخچیر تیر کھا کے چلے
خبر نہیں کہ کوئی تاک میں بھی بیٹھا ہے
یہ جھُٹ پٹے میں کہاں آپ مُنہ چھُپا کے چلے
اِدھر تو آؤ مجھے دو دو باتیں کرنی ہیں
یہ کیا کہ دور سے صورت فقط دکھا کے چلے
وہ رحم کھائیں گے کیا داغ ہوش میں آؤ
تم اُن کے آگے برا حال کیوں بنا کے چلے

No comments:
Post a Comment