یہ تماشا دیکھئے یا وہ تماشا دیکھئے
دی ہیں دو آنکھیں خدا نے ان سے کیا کیا
دیکھئے
چھیڑ کر مجھ کو ذرا میرا تماشا دیکھیئے
دیکھتے ہی دیکھتے ہوتا ہے کیا کیا دیکھئیے
آپ کے چاہِ ذقن سے دل نہ نکلے گا کبھی
یہ کنوئیں میں گِر پڑا آنکھوں کا اندھا دیکھیئے
ہیں ادائیں سی ادائیں اُس سراپا ناز کی
اِک نیا انداز پیدا ہو گا جتنا دیکھیئے
اُس کا ثانی ہے کہاں پیدا ان آنکھوں سے اگر
ساری دنیا دیکھئے سارا زمانا دیکھیئے
یہ چھری میرے ہی دل پر چل رہی ہے ورنہ اب
دیکھنے والا تو کوئی اس ادا کا دیکھیئے
تیزی ِ تیغ نظر کو آپ پہلے دیکھ کر
پھر مرا دل دیکھیئے میرا کلیجا دیکھیئے
بعد میرے یوں وفا کوئی کرے گا کیا مجال
سوچئے دل میں سمجھئے آپ اتنا دیکھیئے
مجھ کو راہِ عشق میں سُوجھا نہ اپنا نیک و بد
رہنما کہتا رہا رستہ ہے ٹیڑھا دیکھیئے
داد وہ بھی دے ہمارے دیکھنے کی بزم میں
کام کر جائے نگاہِ شوق اتنا دیکھیئے
مجھ کو بسمل کر کے ظالم نے کہا منہ پھیر کر
یہ تماشا ہے پُرانا پھر اسے کیا دیکھیئے
داغ دیکھے چاند کو کیوں دیکھ کر چہرا تیرا
جو ہو صورت دیکھی بھالی پھر اُسے کیا دیکھیئے

No comments:
Post a Comment