رہوں
ستم سے بھی محروم یہ ستم کیا ہے
وہ دیکھ
کر مجھے کہتے ہیں اس میں دم کیا ہے
سنبھل
کے کیجئے اِنکار بزمِ دشمن کا
نشیلی
آنکھ یہ کیوں لغزش قدم کیا ہے
جب آپ
عہد شکن اور بد گماں میں ہوں
جو ہے
خدا کی قسم بھی تو وہ قسم کیا ہے
مزا
نمازِ سحر کا تو سن لیا زاہد
وہ لطف
جامِ صبوحی کا صبحدم کیا ہے
ہم اور
دفترِ غم اُن کو کیا نہ لکھ سکتے
جب
اُنگلیوں میں نہیں دم تو پھر قلم کیا ہے
کھلیں
گے راز تمھارے سنو گے کیا کیا کچھ
نہ
پوچھنا کبھی مجھ سے کہ تجھ کو غم کیا ہے
یہ جھک
پڑا ہے فلک سب کی پائمالی کو
بغیر
وجہ ستمگر کی پشت خم کیا ہے
غمِ
فراق میں جو روز مرتے جیتے ہیں
وہ
جانتے ہی نہیں ہستی و عدم کیا ہے
غنیمت
اپنے لئے ہجر میں ہے خونِ جگر
جو رزق
کھانے کو یہ بھی ملے تو کم کیا ہے
سرِ
نیاز سلامت رہے پئے تسلیم
نہیں
تمیز ہمیں دیر کیا حرم کیا ہے
شمار
کثرتِ عصیاں کا ہو نہیں سکتا
کسے خبر
ہے کہ اندازہ کرم کیا ہے
کسی کی
تیر نگہ کو ملے جگہ کیوں کر
ہجومِ
داغِ الم میرے دل میں کم کیا ہے
تمھاری
آنکھ تمھاری نگہ تو ہے بے مہر
تمھارے
دل میں نہیں جانتے ہیں ہم کیا ہے
نظر جو
آئیں تو ہم دیکھ لیں خطِ تقدیر
ہمیں
خبر ہی نہیں لوح کیا قلم کیا ہے
دیا جو
داغ نے ظاہر وہ سب کو ہے معلوم
ملی ہے تم کو جو چُپکے سے وہ رقم کیا ہے

No comments:
Post a Comment