خاک اُس
سے عشق نے چھنوائی تھی
دشت میں
مجنوں کی مٹی لائی تھی
یاد ہے
وعدہ کیا تھا وصل کا
اور پھر
تم نے قسم بھی کھائی تھی
وہ
زمانہ یاد آتا ہے ہمیں
ہائے کس
کس پر طبیعت آئی تھی
اور بھی
عاشق تھے کیا میرے سوا
تُم نے
گنتی اُن کی کیوں گنوائی تھی
ہے یہی
افسردہ دل کو لُطفِ باغ
ہم نے
چُن لی جو کلی مُرجھائی تھی
سُن کے
عاشق کی خبر کہنے لگے
کیا
کریں ہم موت اُس کی آئی تھی
دیکھ
آئے ہم ترے بیمار کو
مُردنی
چہرے پر اُس کے چھائی تھی
رحمتِ
باری نہ تھی گر زاہدو
پھر
گھٹا میخانے پر کیوں چھائی تھی
اس ادا
سے صبح کو وہ گھر گئے
تیغ تھی اے داغ یا انگڑائی تھی

No comments:
Post a Comment