عاشقی
میں یہ بُری بات ہوا کرتی ہے
رنج سے
ترک ملاقات ہوا کرتی ہے
آئینہ
رکھ کے یہی بات ہوا کرتی ہے
آمنے
سامنے دن رات ہوا کرتی ہے
گریہ
عاشقِ بیتاب پہ ہنس کر بولے
اب تو
بے فصل بھی برسات ہوا کرتی ہے
دینے
والوں کا بھی مُنہ آپ نے دیکھا ہے کبھی
ایک
بوسے کی بھی خیرات ہوا کرتی ہے
اے سہی
قد تجھے کہتے ہیں جو طوبیٰ قامت
یہی
دنیا میں بڑی بات ہوا کرتی ہے
خاکساروں
کو بھی آرام نہیں زیرِ فلک
کہ زمیں
موردِ آفات ہوا کرتی ہے
غم
کھلاتے ہیں وہ مہمان بُلا کر مجھ کو
یہ
ضیافت یہ مدارت ہوا کرتی ہے
متّقی
معتقِد پیر مغاں ہوتے ہیں
اُن سے
ظاہر یہ کرامات ہوا کرتی ہے
فاتحہ
کو بھی لحد پر نہیں آتا ہے کوئی
جیتے جی
سب سے ملاقات ہوا کرتی ہے
عشق کیا
جرم ہے انساں کیلئے اے واعظ
اِس گنہ
کی بھی مکافات ہوا کرتی ہے
مجلسِ
وعظ میں انسان فرشتے دیکھے
کیا یہ
جنت کی ملاقات ہوا کرتی ہے
دو گھڑی
دن رہے بازار کا جانا نہ گیا
خوب
پابندی اوقات ہوا کرتی ہے
دل نکل
کر مرے پہلو سے پھنسا گیسو میں
کیا
مسافر کو یونہی رات ہوا کرتی ہے
داغ
صاحب سے کبھی گرم تھی صحبت دن رات
اب تو برسوں میں ملاقات ہوا کرتی ہے

No comments:
Post a Comment