دل میں
فرحت جو کبھی آتی ہے
اپنے
رونے پہ ہنسی آتی ہے
کیوں
صبا کو نہ بناؤں قاصد
ابھی
جاتی ہے ابھی آتی ہے
کیا ہے
گنتی مرے ارمانوں کی
فوج کی
فوج چلی آتی ہے
یہ سبب
کیا ہے جدھر جاتا ہوں
سامنے
تیری گلی آتی ہے
پیشوائی
کو تری گلشن میں
نکہتِ
گل بھی اُڑی آتی ہے
جان
عاشق کی ترے وعدے پر
کبھی
جاتی ہے کبھی آتی ہے
اُس کی
باتوں پہ مرے ماتم میں
رونے
والوں کو ہنسی آتی ہے
شاخِ
اُمید جو ہوتی ہے ہری
ساتھ
پتی کے کلی آتی ہے
کیا عدم
سے ہمیں آنے کی خوشی
موت بھی
ساتھ لگی آتی ہے
تجھ کو
اے غنچہ و گل اُس کی طرح
کھِل
کھِلا کر بھی ہنسی آتی ہے
مجرم
عشق ہوئے تم اے داغ
اب وہاں
سے طلبی آتی ہے

No comments:
Post a Comment