سب
متاعِ دین و دنیا چاہیے
اے ہوس
تجھ کو بھی کیا کیا چاہیے
دین و
دل یا مالِ دنیا چاہیے
آپ کو
کیا چاہیے کیا چاہیے
عقل کہتی
ہے نہ ہو آزارِ عشق
شوق
کہتا ہے کہ ہونا چاہیے
دل
مقابل اُس صفت مژگاں کے ہے
لڑنے
مرنے کو کلیجا چاہیے
اُڑ گیا
بادِ خزاں سے آشیاں
مجھ کو
تنکے کا سہارا چاہیے
لینے
والے کی تو کوئی حد بھی ہے
دینے
والے کو بہت سا چاہیے
اب تو
دیکھی ہے بری حالت مری
پھر بھی
دیکھیں گے وہ دیکھا چاہیے
عاشقی
میں جو نہ کرنا تھا کیا
اب ہمیں
کیا کام کرنا چاہیے
مر نہ
جاؤں کر کے ارمانِ وصال
موت کو
کوئی بہانا چاہیے
اس کو
مل جائے اگر چاہت کی داد
چاہنے
والے کو پھر کیا چاہیے
لکھ رہے
ہیں کیا کراماً کاتبین
میرے دل
کا حال لکھنا چاہیے
داغ کو
حُور و پری سے کیا عرض
آدمی اچھے سے اچھا چاہیے

No comments:
Post a Comment