وہ
سُنتے ہیں جو دل سے کان رکھ کر داستاں میری
مزے
لیتی ہے میرے نطق کے کیا کیا زباں میری
غنیمت
ہے گرفتاری میں تھوڑی سی بھی آزادی
کہ پھر
کر دیکھتی مجھ کو نہیں عمرِ رواں میری
نظر
اپنی چُرا لے مجھ کو روتا دیکھ کر ورنہ
پھرے گی
تیری آنکھوں میں یہ چشم خوں فشاں میری
لحاظ و
پاس کیسا گفتگو جب دو بدو ٹھیری
نہ
رُکتی ہے زُباں اُن کی نہ تھمتی ہے زباں میری
یہ صدمہ
ہے کہیں صدمہ نہ پُہنچے دستِ قاتل کو
بُری
حالت ہوئی جاتی ہے وقتِ امتحاں میری
یہ قسمت
ہے کہ ہو شہرت کسی کی کوئی رسوا ہو
جہاں
مذکور ہے اُن کا وہیں ہے داستاں میری
سلیقہ
بات کا جب تجھ کو اے پیغامبر آئے
ترے دل
میں ہو دل میرا زباں میں ہو زباں میری
لگا کر
آگ وحشت سے نہ ٹھیرایا باغباں دم بھر
کہ بجلی
بن گئی تھی جل کے شکلِ آشیاں میری
لگاوٹ
کی یہ باتیں کرتی ہے کیا کیا اشاروں سے
تری
چشمِ سخن گو میں بھی ہے گویا زُباں میری
ہزاروں
آتے جاتے ہیں کسی سے کچھ نہیں مطلب
فقط اِک
چوکسی کرتا ہے اُن کا پاسباں میری
رقیبوں
کی وفاداری کے وہ شیوے بتاتے ہیں
ہوئی ہے
دوستی بھی اب نصیب دشمناں میری
محبت کا
ہو جس دم قحط گاہک دل کے آگے ہیں
گراں
ہوتا ہے جب سودا تو چلتی ہے دکاں میری
درِ
جاناں پہ فرسودہ کیا ہے جب کیفیتِ رفتار مستانہ
تو
متوالوں کی صورت لڑکھڑاتی ہے زُباں میری
پسند
آئی تھی جو اُن کو وہی میں بات بھُولا ہوں
اب اِک
اک حرف کو اُس کے ترستی ہے زباں میری
سُناؤں
کس کو جو کچھ عمر بھر آنکھوں سے دیکھا ہے
کہ
طولانی بہت ہے داغ ہاں یہ داستاں میری

No comments:
Post a Comment