ایذائے
درد و غم تری فرقت میں مل گئی
ملنی
تھی جو سزا وہ محبت میں مل گئی
یہ شکل
اتحاد کی صورت میں مل گئی
تصویر
آپ کی مری حیرت میں مل گئی
آنکھوں
کو تیرگی شبِ فرقت میں مل گئی
اُس سے
جو کچھ بچی مجھے تربت میں مل گئی
دل آتشِ
فراقِ صنم نے جلا دیا
دوزخ سے
جو بچی مجھے جنت میں مل گئی
پورا
دیا جواب نہ قاصد نے جب مجھے
آدھی
اُمیدیاس میں حسرت میں مل گئی
آرامِ
بعدِ مرگ ملا دردِ عشق سے
خاکِ
شفا نصیب سے تُربت میں مل گئی
بیداد
گر کو آئے گا بیداد کا مزا
گر داد
عاشقوں کو قیامت میں مل گئی
دل کو
ہے اضطراب نہ وحشت مزاج میں
آسائش
ایسی کنجِ قناعت میں مل گئی
بر گشتہ
اُس سے دل جو ہوا اور غم ہوا
بر گشتگی
وہی مری قسمت میں مل گئی
دنیا
میں جانتا ہوں کہ جنت ملی مجھے
راحت
اگر ذرا سی مصیبت میں مل گئی
وقتِ
اخیر آ ہی گیا موت کا مزا
یہ لذت
اور درد کی لذت میں مل گئی
اس پر
بھی ہم کو ناز ہے مشہور تو ہوئے
رسوائی
اپنی آپ کی شہرت میں مل گئی
بلبل کا
نالہ کیوں مرے فریاد میں ملا
کیوں گل
کی رنگت آپ کی رنگت میں مل گئی
اے داغ
شکر کر کہ شرفیاب تو ہوا
دل کی مراد حج و زیارت میں مل گئی

No comments:
Post a Comment