کاروبار_وفا کا نام نہ لو
آدمی کی
سزا کا نام نہ لو
رہزن شرمسار سے ہوں گے
راہبر و رہنما
کا نام نہ
لو
ڈوب جاتی ہیں کشتیاں اکثر
کیا ہوا ناخدا
کا نام نہ
لو
کس نے توڑا ہے کاسہءمجنوں
ان کے
دست_سخا کا نام نہ لو
کون چپکے سے پی کے گزرا ہے
زاہد_پارسا کا
نام نہ لو
رنگ اڑ جاۓ گا شگوفوں کا
اعتبار_صبا کا
نام نہ لو
ِذاق ِ انسان کی مفلسی ساغر
کہہ رہی
ہے خدا کا نام نہ لو
ساغر صدیقی
No comments:
Post a Comment