بے اثر
ٹھہری دعائیں سب کی سب
عمر بھر
کی وہ وفائیں سب کی سب
رہ نہ
جائے ہجر میں کوئی بلا
کس نے
روکا اُن کو آئیں سب کی سب
عشوہ
ہو، یا غمزہ ہو، یا ناز ہو
تیر ہیں
تیری ادائیں سب کی سب
کیا
کروں میں اُن کی یہ تاکید ہے
تو
اُٹھا میری جفائیں سب کی سب
چھین کر
دل اُس سراپا ناز کی
ناز
کرتی ہیں ادائیں سب کی سب
گو نہ
دیں اے نامہ بر کوئی جواب
سُن تو
لیں وہ التجائیں سب کی سب
میں
کروں تیری جفاؤں کا شمار
حشر میں
گر یاد آئیں سب کی سب
میری
ناکامی کے در پے ہے فلک
آرزوئیں
مِٹ نہ جائیں سب کی سب
جائے
حوروں میں اگر تیرا شہید
اپنی
آنکھوں پر بٹھائیں سب کی سب
یا خُدا
آئے گا وہ دن بھی کبھی
ہم
مُرادیں اپنی پائیں سب کی سب
داغ کو
ہے اُس کی رحمت سے اُمید
بخش دے
گا وہ خطائیں سب کی سب

No comments:
Post a Comment